(انحراف کے ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ 26 اکتوبر 2012 بروز جمعہ کی شب کے لئے کہی گئی نعت)

عجب عشقِ نبی کی روشنی ہے
مری جاں میں اترتی روشنی ہے

اُنہیں کی یاد کی لو ہر طرف ہے
"ہر اک سو روشنی ہی روشنی ہے”

کسی سورج کی ہے ذرہ نوازی
مرے ادراک میں بھی روشنی ہے

اُنہیں کے ذکرِ انور کا ہے افسوں
فلک سے تا بہ دھرتی روشنی ہے

مرے سینے میں اُن کا نام دھڑکے
مرے چہرے سے چھنتی روشنی ہے

اے دنیا تیری چکاچوند جھوٹی
وہی بس ایک سچی روشنی ہے

زمانے کی سیاہ بختی ہے ورنہ
سبھی کے نام اُن کی روشنی ہے

شبِ گستاخ کو تاراج کر دے
ابھی دنیا میں اتنی روشنی ہے

Advertisements