دھری تھی سامنے اور جھاگ جھاگ تھی لسی
کمال شوق سے اُس شوخ نے بھی پی لسی

ہر ایک شخص کو بھاتا ہے ساگ سرسوں کا
ہمارے گاؤں میں چلتی ہے آج بھی لسی

وہ کوکا کولا تو پیتا ہے ایسوں ویسوں سے
مگر پسند نہیں ہے تری مری لسی

تمہارا حُسن تمہاری ہی ذات کا خاصہ
کہ ہر دکان سے ملتی نہیں دہی لسی

سو یُوں بھی پینے بلانے کا سلسلہ نہ رکا
ملی نہ مئے تو سرِ جام ڈال دی لسی

تُو فون چُکتا ہے نہ مجھ کو نیند آتی ہے
ترا خیال بنا ہے دماغ کی لسی

قرار دیتا رہا جس دہی کو وہ کھٹا
چڑھا رہا ہے اُسی کی بنی ہوئی لسی

صدا لگاتا ہے گھڑیال "جاگتے رہنا !”
پیوں تو کیسے پیوں نیند سے بھری لسی

یہ اور بات سمجھتا ہوں "پینڈو کولا” اُسے
اگرچہ پیتا ہوں میں بھی کبھی کبھی لسی

ظفر ہمیشہ سے چائے گزیدہ ہیں شاعر
پئے سخن نہ کبھی نوش کی گئی لسی

Advertisements