ساس کو دیکھا تو ہر جی دار پنکچر ہو گیا
گن کے آگے سینہءتلوار پنکچر ہو گیا

عشق کی ہٹی میں ڈاکہ مار کر بھاگے تھے ہم
چوک پر آ کر دلِ غدار پنکچر ہو گیا

راس نہ آئی کسی انگنائی کی آب و ہوا
ہر کہانی میں مرا کردار پنکچر ہو گیا

عزم تھا کہ چھو کے آنا ہے کسی معراج کو
فورچن تھا کہ گلی کے پار پنکچر ہو گیا

آج ہی مورال کی ٹیوننگ کرا کر لائے تھے
قیمتیں سن کر مگر یکبار پنکچر ہو گیا

کوئی غربت میں بھی پھولا ہے غبارے کی طرح
کوئی پا کر عزتِ دربار پنکچر ہو گیا

کار تھی مانگے کی لیکن شان تو بن ہی گئی
کار کو دیکھا تو ہر بیکار پنکچر ہو گیا

دل کی ڈکی میں تو اسٹیپنی نہیں ہے صبر کی
یہ کہاں آ کر ہمارا پیار پنکچر ہو گیا

ارتقاء کی روڈ پر آ تو گئی ہے زندگی
جی حضوری سے مگر پندار پنکچر ہو گیا

ہم گلوکاری کا موٹر وے سمجھتے تھے اُسے
جس حلق میں آن کر ملہار پنکچر ہو گیا

بے گناہی پر بھی لترولا گیا ہے رات بھر
جا کے تھانے میں ہمارا یار پنکچر ہو گیا

شام کو اپنے دولہا کے ساتھ نکلی تھی کہیں
دیکھ کر گلنار کو گلزار پنکچر ہو گیا

اِک ذرا جوڈو کراٹے کھیل بیٹھے تھے رقیب
سر ہمارا برسرِبازار پنکچر ہو گیا

کس طرح چلتا یہاں کی ڈب کھڑبی روڈ پر
کار کا ٹائر تھا کچھ خوددار پنکچر ہو گیا

خطۂ لاہور سے منجوا کے لایا تھا زباں
جب سنے مجھ سے مرے اشعار پنکچر ہو گیا

Advertisements