ایک فی البدیہہ آن لائن طرحی مشاعرے کے لئے کہی گئی غزل جو لوڈشیڈنگ کے باعث وہاں پیش نہ کی جا سکی۔

ہو گیا وہ کس کو پیارا یہ کہانی پھر سہی
کس پہ کس کا تھا اجارہ یہ کہانی پھر سہی

کس لئے ہر دوسرے دن پہنچتا  ہوں میں وہاں
دور کتنا ہے ہزارہ یہ کہانی پھر سہی

کیوں فقط چندایک توندوں کے لئے مختص رہا
اپنا ہر قومی ادارہ یہ کہانی پھر سہی

کیا بتاؤں کس طرح فائل کو پر لگنے لگے
نوٹ جب نکلا کرارا’ یہ کہانی پھر سہی

کون دشمن تھا کہ جس کی یاد پھر تڑپا گئی
تیر جب یاروں نے مارا یہ کہانی پھر سہی

اُس کی شادی پر چھوہارے کس طرح بانٹے گئے
وہ جو خود بھی تھا چھوہارا یہ کہانی پھر سہی

کیوں ہے زندہ باد مردہ باد اُس کے واسطے
جو ہمارا نہ تمہارا یہ کہانی پھر سہی

نیند ٹوٹی ہے مری کس بے سُری آواز پر
کون کب کیسے ملہارا یہ کہانی پھر سہی

کس سفارش کے نہ ہونے سے "شدہ” ہو نہ سکا
ایک سائنس کا کنوارہ یہ کہانی پھر سہی

کر رہا ہے کیا کسی کے آسمانوں پر ظفرؔ
میری قسمت کا ستارہ یہ کہانی پھر سہی

Advertisements