(انحراف کے فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ 19 اکتوبر 2012 بروز جمعہ کی شب کے لئے کہی گئی غزل کے چند اشعار)

چھوڑ دے بیگم جو ہے عزمِ غدر رکھا ہوا
"ورنہ وہ ہے باندھ کر رختِ سفر رکھا ہوا”

بِل نہیں ہاتھوں میں ہے ریوالور رکھا ہوا
ڈاکٹر کاہے کو ہم نے ہے کِلر رکھا ہوا

جو بھی گھر والی کی منشا ہے وہی مرقوم ہے
یہ کوئی شوہر ہے یا ہے پوسٹر رکھا ہوا

ساس نے ہم کو کبھی سمجھا نہیں بیٹا تو پھر
کس طرح لاء میں ہے رشتہء مدر رکھا ہوا

ہنس رہا ہے وقت کے منصوبہ سازوں پر بہت
پالنے میں اک نیا لخت جگر رکھا ہوا

ہم بھی اُڑ سکتے تھے پریوں کے فسانوں میں کہیں
تیرے ٹسوؤں نے ہمیں ہے باندھ کر رکھا ہوا

کس طرح تقدیر نے ہم کو ملانا ہے بھلا
میں اِدھر رکھا ہوا ہوں تُو اُدھر رکھا ہوا

دیکھتا ہے راستہ میرے عزائم کا ابھی
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں سفر رکھا ہوا

طیش کے عالم میں ہم بھی ہوش میں رہتے نہیں
ہاتھ اُس نے بھی ہے طبلِ جنگ پر رکھا ہوا

کون ہے جس نے بٹیرانِ سیاست کو ہنوز
کھانے پینے کے لئے شیر و شکر رکھا ہوا

میسنا لگتا ہوں خاصا شکل سے تو کیا ہوا
ہر قدم تو ہے میانِ اہل شر رکھا ہوا

اس طرح کیسے کٹے گا زندگانی کا سفر
ہر اگر کے بعد اُس نے اک مگر رکھا ہوا

وہ بھی "کُولم کُول” ہے میک اپ کے صدقے میں جہاں
میں نے بھی اپنے لئے پولی کلر رکھا ہوا

ٹیچری کو چھوڑ کر ہم بھی بچر بن جائیں گے
ٹارگٹ ہم نے بھی ہے عید بقر رکھا ہوا

حلقہء احباب میں اُن کی بھی جگتیں ہیں بہت
نام جس جس نے ظفر کا ہے ڈفر رکھا ہوا

Advertisements