(علامہ اقبال کی شہرۀ آفاق نظم ” ایک پہاڑ اور گلہری “ کی پیروڈی)

کوئی گنوار یہ کہتا تھا اِک سپاہی سے
تجھے ہو شرم تو یوں نہ اکڑ کے بات کرے

ذرا سا عہدہ ہے اِس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا

خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھا
تو کیا سمجھ کے مجھے بدتمیز بن بیٹھا

تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
تجھ ایسے باندھ کے رکھتا ہوں تھان کے آگے

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو بھلا نصیب کہاں
میں چوہدری کہاں ، تو عام سا غریب کہاں

کہا یہ سن کے سپاہی نے منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے اِنہیں نکال ذرا

میں چوہدری نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو مجھ جیسا بادشاہ بندہ

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
جو میں پلس میں ہوں تو یہ بھی اُس کی حکمت ہے

بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے
مجھے بھی تجھ سے نمٹنا سکھا دیا اُس نے

قدم اُٹھانے کی ہمت نہیں ذرا تجھ میں
جو میں نہ چاہوں تو جرات نہیں ذرا تجھ میں

یوں اپنی مونچھ کے کنڈل سے نہ ڈرا مجھ کو
اِس اپنے چھکڑے کا لیسینس تو دکھا مجھ کو

اگر نہیں ہے تو کر چھیتی مک مکانے میں
کوئی بڑا نہیں رہتا ہے ورنہ تھانے میں

Advertisements