عقد کا چکر چلایا تک نہیں
جا کے لندن لندنایا تک نہیں

کھا گئے مرغے رقیب ِ روسیاہ
مجھ کو دعوت میں بلایا تک نہیں

دوستی کیا دوستوں سے خاک تھی
میرا اسکینڈل بنایا تک نہیں

ہائے تیرے حافظے کی کیا کہوں
نام سن کے ہڑبڑایا تک نہیں

تیرے انداز ِ ستم کی خیر ہو
وقت نے بسمل کمایا تک نہیں

تیری نظروں کی سیاست کی قسم
بھینگے پن پر تلملایا تک نہیں

اُن کی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی
شیخ نے ٹٹو دوڑایا تک نہیں

امتحان ِ غم مجھے درپیش ہے
ممتحن سے مک مکایا تک نہیں

میری بالیں سے بندھی ہے غیر نرس
جس کا ہوں بیمار آیا تک نہیں

تجھ سے ملنا ہو گیا مشکل مجھے
میری پاکٹ میں کرایہ تک نہیں

رند سب کنگال ہو کر رہ گئے
میکدے میں گل کھلایا تک نہیں

شعبدہ بازی نہیں مطلق پسند
لیڈری کا مجھ پہ سایہ تک نہیں

کھائے ہیں انگور جی بھر کے ظفر
دخت ِ رذ کو آزمایا تک نہیں

Advertisements