(مرحوم قتیل شفائی کی غزل کی پیروڈی)

اپنے نوٹوں کی ہواؤں میں ا ُڑا لے مجھ کو
میں ہوں لوٹا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں محرر ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں جو افسر ہوں تو پپا سے ملا لے مجھ کو

میں کھلی بوری میں رکھا ہوا گُڑ ہوں پیارے
پاؤ دو پاؤ کبھی تو بھی منگا لے مجھ کو

ایک دو نوٹ ادا کر کبھی میری خاطر
تُو کبھی کال تو کر بھولنے وا لے مجھ کو

مجھ سے تُو پوچھ رہا ہے کہ کرپشن کیا ہے
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈا لے مجھ کو

تُو نے دیکھا نہ کبھی توند سے آگے کچھ بھی
ڈرتا رہتا ہوں کسی روز نہ کھا لے مجھ کو

لاکھ دو لاکھ ہیں کیا بینک ہی کھا جاؤں ظفرؔ
شرط یہ ہے کوئی تھانے سے بچا لے مجھ کو

Advertisements