آپ جس کے سامنے سرتاج سے” اوئے“ ہوئے
پوچھتی ہے رات بسرائی کہاں موئے ہوئے

اومنی بس میں گھسے تھے یا کسی پنڈال میں
ناک بھی چپٹی ہوئی، چہرے پہ بھی ٹوئے ہوئے

کر رہے تھے ٹیکس والے تاجروں سے ٹاکرا
دیکھ کر آیا ہوں میں کٹے کئی چوئے ہوئے

شہر تو بس دو طرح کے رہ گئے ہیں ملک میں
یا دہوئیں میں گمشدہ یا گرد میں کھوئے ہوئے

کیا خبر کہ وقت نے ماری ہیں کتنی جوتیاں
ہم تو روزِ آفرینش سے ہیں” ٹن“ سوئے ہوئے

ہر دفعہ ہوٹنگ ہوئی اُن پر سرِ بزمِ سخن
ہر دفعہ موصوف آ ٹپکے ہیں منہ دہوئے ہوئے

Advertisements