رستہ ہی بدلنا ہے
تو ساتھ کیا چلنا ہے

یارانِ سبک گاماں !!
گر گر کے سنبھلنا ہے

کتنا ہی اندھیرا ہو
سورج نے نکلنا ہے

گردابِ تمنا نے
جیون ہی نگلنا ہے

مدت سے یہی سوچیں
سوچوں سے نکلنا ہے

Advertisements