حبس کا عالم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے
گریہء پیہم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

خشک پتے سرسراتے ہیں مرے اندر کہیں
ہاتھ میں البم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

زندگی بھر کی گھٹن کا کچھ مداوا تو کرے
وقت سا محرم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

آخرِ شب کے سفر میں کیا خبر کب ہو سحر
سانس کچھ مدھم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

روح سے کھرچی نہیں جاتیں خزاؤں کی تہیں
فصلِ گل کا غم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

یہ فضا گویا مرے سوزِ دروں میں ڈھل گئی
دور تک شبنم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

خشکیوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو پائے گا
آرزو کا نم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

پہنتا ہوں کیسے خوابوں کی گلابی عینکیں
عنبریں موسم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

آکسیجن مسکراہٹ کی اتارو بھی  ظفر
وقفہء ماتم ہے اور بادِ صبا کی بات ہے

Advertisements