احساس کی وکٹ پر بُرا کھیلنے لگے
ہم اپنی آگہی سے جوا کھیلنے لگے

کیا رُوپ ہیں جو میری نظر کے طفیل ہیں
رخسار پر بہ رنگِ حیا کھیلنے لگے

یاروں نے کیچ کر لی محبت کی بیکلی
ہم تم پئے سزا و جزا کھیلنے لگے

ہر ہر سمے کی پچ پر ہیں خود آزمائیاں
ہر حادثے سے اہلِ دعا کھیلنے لگے

اربابِ میداں رہنے لگے مستقل خفا
ہم سے ہوئی بس اتنی خطا کھیلنے لگے

Advertisements