دور جاتے ہوئے قدموں کی نوا میں گُم ہوں
جانے کب سے کسی صدمے کی فضا میں گُم ہوں

تیری تصویر کہ باتیں کئے جائے مجھ سے
اور میں ہوں کہ کسی چُپ کی گُُپھا میں گُم ہوں

اپنی پہچان کی منزل نہیں آئی اب تک
میں کہ خوشبو کی طرح بادِصبا میں گُم ہوں

پی لیا جس نے مرے چین کو سگریٹ کی طرح
ہائے اب بھی اُنہیں گلیوں کی ہوا میں گُم ہوں

اپنے ہونے کی خبر ہے نہ زمانے کا پتہ
ایک مدت سے مگر کُن کی صدا میں گُم ہوں

تیرے خوابوں نے مجھے چھین لیا تھا کل بھی
آج بھی دور بہت دور خلا میں گُم ہوں

اب میں کیا خاک کروں سمتِ سفر کو موزوں
عمرِ رفتہ کی کسی لغزشِ پا میں گُم ہوں

Advertisements