کسی درزی سے خطا ہو جائے
نئے فیشن کی بناءہو جائے

دل بدستور ہے تم پر لٹو
اب تو بالغ یہ ذرا ہو جائے

وہ جو لگتی ہے تمہیں ایویں سی
وہی میک اپ سے بلا ہو جائے

جنج پھنس جائے ٹریفک رش میں
کسی لاڑے کا بھلا ہو جائے

اُس کا جھانپڑ بھی ہے تھپکی جیسا
جس کے ہاتھوں میں شفا ہو جائے

روٹھتا ہے تو مرے ٹھینگے سے
ہو رہا ہے تو خفا ہو جائے

کچھ سراغِ دلِ آوارہ ہو
"لاپتہ ہے” یہ پتہ ہو جائے

سانولا پن ہے رہین ِ میک اپ
ورنہ بالکل ہی توا ہو جائے

جھوٹ بکنے میں ہے ماہر خاصا
قوم کا راہنما ہو جائے

جاب مل جائے اگر کسٹم میں
سات پشتوں کا بھلا ہو جائے

بڑھنے دیجے نہ گرانی اتنی
بے ایمانی بھی روا ہو جائے

دوسری بار نہیں پوچھوں گا
آپ راضی بہ رضا ہو جائے

سب حسینوں سے تعلق رکھئے
جانے کب کس سے وفا ہو جائے

کھا رہا ہوں ترے غم میں بھٹے
ایکا ایکی مجھے ” تا “ ہو جائے

تیرے پپا سے مجھے کہنا ہے
تیری نسبت سے مرا ہو جائے

وہ جو اب ڈوب چلا ‘ دور دفع !
چڑھتے سورج کی ثنا ہو جائے

ہو چلا ہوں میں دلہن کو پیارا
میرے حق میں بھی دعا ہو جائے

اب دوائی نہیں ملتی اصلی
درد ہی بڑھ کے دوا ہو جائے

وعدئہ وصل بجٹ کی صورت
حاصلِ بیم و رجا ہو جائے

عقل کی غوطہ زنی فرمائیں
ناوکِ چشم خطا ہو جائے

ایسے کلجگ میں مناسب ہو گا
ہر کوئی چکنا گھڑا ہو جائے

یونہی بیکار نہ بیٹھو یارو !!
کچھ نہیں ہے تو جوا ہو جائے

ہم ہیں شرفاءسو رہیں گے بزدل
جو بُرا ہے وہ بڑا ہو جائے

پھیل جائے یہ مرض دنیا میں
حق پرستی بھی وباءہو جائے

جب اُسے شعر سنانے بیٹھوں
کون جانے اُسے کیا ہو جائے

Advertisements