(ایک طرحی مشاعرے کے لئے لکھی گئی غزل)

گزشتہ رُت کی پشیمانیاں بھلا دوں گا
جنونِ شوق کو رختِ سفر نیا دوں گا

میں خوفِ فردا کی سولی پہ چڑھ نہیں سکتا
جو حشر تُونے اُٹھانا ہے’ میں اٹھا دوں گا

فقط خیال ہے میرا کہ اپنا   آئندہ
ترے خیال کی دیمک سے میں بچا دوں گا

عطا ہوئی مجھے معراجِ گمرہی ایسی
بھٹکنے والوں کو میں راستہ دکھا دوں گا

یہ حبسِ ذات کہیں نہ کہیں تو ٹوٹے گا
"میں اس ہوا میں تجھے دور تک صدا دوں گا”

اِسی میں عمرِ گزشتہ کی شکل دیکھوں گا
تمہاری یاد کو آئینہ میں بنا دوں گا

کسی نے بھی نہیں چلنا ہے میری راہوں پر
میں اپنے آپ کو ہی قافلہ بنادوں گا

Advertisements