نکلے  تھے ہم جہانِ دگر کی تلاش میں
بھٹکے ہوئے ہیں سمتِ سفر کی تلاش میں

کیوں واہموں نے تھامے ہوئے ہیں مرے قدم
جب خواب چل پڑے ہیں سحر کی تلاش میں

کیا سوچتے ہو فردا نژادوں کے شہر میں
کیا دیکھتے ہو اہلِ نظر کی تلاش میں

یوں ایک ثانئے کے بھنور نے نگل لیا
جیسے رہے ہوں ہم اِسی شر کی تلاش میں

منزل پہ بھی ہے فکرِ مسافت اُسی طرح
پھر سے نکلنا ہے ہمیں گھر کی تلاش میں

سائے سے رنگ و نور کا فیضان ہے عبث
حاصل حصول کیا ہے بشر کی تلاش میں

منزل نہیں ہو راہ کے اِک سنگِ میل ہو
جانے بھی دو ظفر کو ظفر کی تلاش میں

Advertisements