بزمِ قطر اُردو کے سالانہ مزاحیہ مشاعرے کے لئے لکھی گئی غزل
سب احمقوں پہ اُس نے محبت حلال کی
مسز کمال تیری کُڑی ہے کمال کی

مجھ کو کیا ہے یاد تو خرچہ مرا ہوا
مس کال کی ہے مس نے مجھے جب بھی کال کی

میں انتفاعِ ترکِ مراسم نبھاؤں گا
تصویر فیس بُک میں بدل دوں گا وال کی

دنیا کو کیا پتہ مرے اکلِ حرام کا
ہوتی نہیں ہے اس میں ضرورت  خلال کی

وہ میرے سات مرلے کے گھر میں نہ آئیں گے
ذاتی چوڑائی جن کی ہے دو دو کنال کی

میرا سوال عہدِ محبت کے باب میں
اُس کا جواب ۔۔۔۔۔ایسی کی تیسی سوال کی

سسرال نہ بدل لوں سہولت کے واسطے
ملتی نہیں ہے لاری مجھے خانیوال کی

میں اُس کے ساتھ کا ہوں مگر ہوں پچاس کا
"وہ تیس سال سے ہے فقط بیس سال کی”

ہو جاتا ہے وہ طیش میں چکوال مارکہ
شیرینی دیکھئے کسی شیریں مقال کی

کب سے میں ڈہونڈتا ہوں پئے تعزیت اُسے
جس نے خبر اُڑا دی مرے انتقال کی

Advertisements