آپ کے غم کی رفاقت چاہئیے
ورقہ بن نوفل کی حسرت چاہئیے

جن سے رخشندہ تھے رفقاء آپ کے
ہم کو اُن جذبوں کی شدت چاہئیے

آپ کے دل میں جو دھڑکا تھا کبھی
بس اُسی پل کی زیارت چاہئیے

سرخوشی اذن حضوری کی ملے
اک ذرا چشم عطوفت چاہئیے

ہر نفس مہکے زمان پاک میں
عمر بھر احساس جنت چاہئیے

تھک گئے دنیا کے پیچھے دوڑ کر
اسوہء حسنہ کی رحمت چاہئیے

آج ہم میں ہیں ابو عامر بہت
سورہء توبہ کی آیت چاہئیے

Advertisements