دہوپ سے بچنے کی خاطر سائباں رکھا گیا
سہل انگاروں نے جانا آسماں رکھا گیا

ہائے کیوں آغاز کر بیٹھا سفر اِس ذعم میں
رہگذاروں کو بقدرِ رہرواں رکھا گیا

کاوشِ تسخیرِ منزل ناخدا کے سر رہی
میرا قصہ بہرِ زیبِ داستاں رکھا گیا

جراتِ پرواز دیتا ہی نہیں بارِ بدن
ورنہ میری پہنچ میں ہر آسماں رکھا گیا

منزلیں سب کی جدا کیوں ہیں باوصف ایں ظفر
ایک نقشہ کارواں در کارواں رکھا گیا

Advertisements