طوفانِ غم میں آ کے ہماری مدد کرے
دل کا دیا جلا کے ہماری مدد کرے

یا اپنا عکس چاند سے لے جائے نوچ کر
یا چاند کو بجھا کے ہماری مدد کرے

ہر فاصلہ مٹائیں گے‘ لیکن وہ شوخ بھی
دو اِک قدم بڑھا کے ہماری مدد کرے

خُوشبو کی ہم رکابی ہمیں بخش دے صبا
پھولوں کو گُدگُدا کے ہماری مدد کرے

ہم بھی اُسے اُسی کے لئے بھول جائیں گے
وہ بھی نہ یاد آ کے ہماری مدد کرے

اُس سے کہو کہ چاہئے ہم کو بھی روشنی
کچھ دیر مسکرا کے ہماری مدد کرے

دم گھٹ نہ جائے صبر و تحمل کے حبس میں
کوئی ہمیں رُلا کے ہماری مدد کرے

وہ خوش ہوئے تو ہم کو بھی ہو گی خوشی ظفر
وہ اپنا گھر بسا کے ہماری مدد کرے

Advertisements