غریبوں کی محبت کا بھی کوئی ریٹ ہوتا ہے
سمے ہو بھی خوشی کا تو ہمیشہ لیٹ ہوتا ہے

فسانہ حجرۂ دِل کا اسیر غم سنائے کیا؟
دریچہ اِس میں ہوتا ہے نہ کوئی گیٹ ہوتا ہے

کوئی جذبہ ہے ایسا بھی جو مر سکتا نہیں ہرگز
کوئی فیشن ہے ایسا بھی جو اپ۔ ٹو۔ ڈیٹ ہوتا ہے

نیامِ ذات میں رکھتا ہے جو شمشیرِ خود داری
جہادِ زندگانی میں سدا لملیٹ ہوتا ہے

یہ بھاری بھاری توندیں تو امیروں کو مبارک ہوں
غریبِ شہر کی تقدیر میں تو پیٹ ہوتا ہے

ظفر اِک منچلا ارمان دم لینے نہیں دیتا
کبھی افسانہ بنتا ہے کبھی سانیٹ ہوتا ہے

Advertisements