بہکاوے میں آیا ہوں
گھوڑے پر چڑھ بیٹھا ہوں
مونہہ پر سہرا ڈالا ہے
سجا سجایا کھوتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

دلہن کا ارمان بجا
لیکن ہے سسرال بلا
کب سے شوخ بلاؤں میں
پانی پانی ہوتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

یوں سسرال کی آل دھمال
کھینچ رہی ہے میری کھال
جیسے میں ہی دنیا میں
قربانی کا بکرا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

ہونے والی ہر سالی
آفت کی ہے پُر کالی
اِن کے نرغے میں خود کو
یکسر الُو لگتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

فقرے بازی کرتی ہیں
مجھ پر کھی کھی ہنستی ہیں
اور میں شرمندہ ہو کر
سر کو کھجائے جاتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

یار جو ہمراءبیٹھا ہے
چومکھی تو لڑتا ہے
لیکن اب تو اس کو بھی
بولایا سا پاتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

مانگ رہا ہوں دل میں دعا
یارب مجھ کو اِن سے بچا
اب کیا ہو کہ شادی کی
غلطی تو کر بیٹھا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

Advertisements