یوں تیرے چکر میں گم ہوں
تو موجود مگر میں گم ہوں

اِک آسیب ہے جسم و جاں میں
اِک بے نام بھنور میں گم ہوں

کس کی گونج ہے میرے اندر
کس کے روپ نگر میں گم ہوں

ساری  دنیا  پڑی  ہوئی ہے
میں کیوں اِک منظر میں گم ہوں

جیون  ایک  تہی  ساغر ہے
اور اس کے اندر میں گم ہوں

Advertisements