(احمد فراز کی زمین پر ۔۔۔۔ ایک طرحی مشاعرے کے لئے)

 

میرے بھرم کو کس لئے بے آبرو کرے
جو میری بات ہے وہ مرے روبرو کرے

تیری گلی سے آگے کوئی راستہ نہیں
دیوانہ منزلوں کی کہاں جستجو کرے

خلوت کدہء شب میں مچلتا ہے جی بہت
اُترے زمیں پہ چاندْ تری گفتگو کرے

کیسی جراحتوں کا تقاضہ ہے دوستو
وہ تارِدل یا تارِ گریباں رفو کرے

لب بستگی سے اور نمایاں ہیں رازِ غم
اندر کی چُپ تو شور مرے چارسو کرے

قربان کیوں نہ کاوشِ گلچیں کے جائیے
بہ اہتمام باد صبا کو جو لو کرے

سودا تھا کس کو ترکِ مراسم کا یاد کر
کیوں آبدیدہ ہو کے مجھے یاد تُو کرے

کیا کیا نہ چھیڑ دیں مرے آنسو حکایتیں
جب چاند آ کے بات لبِ آبجُو کرے

ہم برگِ خشک کی طرح اُڑتے ہیں دربدر
کچھ معجزہ تو آپ کا ذوقِ نمُوُ کرے

اک بار ٹوٹ جائے جو زنجیر مان کی
"تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے”

اُس کو بھی میرے عشق کی بیتابیاں ملیں
میری طرح وہ یاد مجھے بھی کبھوُ کرے

دل کو ہے اختیار مرے باب میں ظفر
جو میرے حق میں چاہے سو میرا گرو کرے

Advertisements