اور ہاں ہمسائے کا خالی مکاں

ہو چکا آباد بدھ کی شام سے
میں بھی ٹیرس پر کھڑی تھی اُس سمے
فیملی آئی تھی میرے سامنے

—-

فیملی میں تین ہی افراد تھے

ایک عورت ایک اُس کا آدمی
اور اک لڑکی مری ہی عمر کی
دیکھنے میں شوخ سی اور بولڈ سی

—-

پینٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی

بال تھے پھیلے ہوئے شانوں تلک
چال تھی ایسی کہ جھپکے نہ پلک
کان میں دیکھی تھی بالی کی جھلک

—-

نعرہ ء یاہُو کیا دل نے بلند

اب مزے ہمسائیگی کے آئیں گے
بوریت کے دن نہ رہنے پائیں گے
دوست اک دوجے کے ہم بن جائیں گے

—-

روز ہوں گی آنیاں اور جانیاں

اب رہیں گی رونقیں شام و سحر
دوستی پنپے گی وکھری طرز پر
خوب ہم باتیں کریں گے بیٹھ کر

—-

تین دن تک تو رہی یہ کیفیت

روز منصوبہ بناتی تھی نیا
کس بہانے اُس کے گھر جاؤں بھلا
کس طرح ہو دوستی کی ابتدا

—-

اب ذرا کل شام کا قصہ سنو

آئیں تھیں ملنے کو خالہ کوثرو
کیا بتاؤں اُس نے بتلایا ہے جو
اُف خدا لڑکی نہیں لڑکا ہے وہ

Advertisements