ریل گاڑی کی سیٹی بجی
اور ساری فضا شورشِ ہجر سے گونج اُٹھی
ایک ڈبے کی کھڑکی سے رستی ہوئی اُن نگاہوں کی چپ
اور میرے ارادوں کی کم ہمتی
ریل گاڑی کی وہ پٹریاں ہیں
کہ جن پر مرے خواب حسرت بنے جاتے ہیں

—–

ریل گاڑی میں حرکت ہوئی
ساعتوں کے طلسمات بیدار ہونے لگے
بھنبھناتی ہوئی رخصتی کی صداؤں میں جیسے کوئی چابیاں بھر گیا
الوداع کے لئے ہاتھ اُٹھنے لگے
آخری بار میں نے اُن آنکھوں میں دیکھا
تو میری بھی آنکھوں میں سگریٹ کا کڑوا کسیلا دھواں بھر گیا

Advertisements