فکرِ سود و ذیاں سے اُٹھتا ہے
دل ترے خاکداں سے اُٹھتا ہے

جس کے دم سے تھی انجمن آباد
اب وہی درمیاں سے اُٹھتا ہے

اِک ستارہ جو تیرے نام کا تھا
حجرۂ کہکشاں سے اُٹھتا ہے

کوئی کُوئے نگار سے یُوں اُٹھا
جیسے خوابِ گراں سے اُٹھتا ہے

سُرخیٔ داستان بن کے کوئی
کیوں مری داستاں سے اُٹھتا ہے

کس کی یادوں کی آہٹیں جاگیں
زلزلہ جسم و جاں سے اُٹھتا ہے

اِک ستم ہے ستم پہ چُپ رہنا
حشر کچھ تو فغاں سے اُٹھتا ہے

جانے کس کو جلا کے راکھ کرے
ایک شعلہ زباں سے اُٹھتا ہے

بجلیاں ہوں نہ ہوں سحابوں میں
اعتبار آسماں سے اُٹھتا ہے

یونہی پڑتی ہے قافلے کی بناء
میں یہاں تُو وہاں سے اُٹھتا ہے

پُوچھتا ہے لگا کے آگ ظفر
“یہ دہواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے“

Advertisements