کیسے سمے کو چیر کر نکلا ہے رستہ چاند کا
اب کے تو شب زادوں نے بھی کھیلا ہے مہرہ چاند کا

بے نام تاویلوں کے گرہن میں ہے سر ڈالے ہوئے
نقشہ نویسوں نے کہاں بدلا ہے نقشہ چاند کا

آنکھوں کو کھلنے ہی نہیں دیتی یہ ظالم تیرگی
سب کو خبر ہے رات بھر بہتا ہے چشمہ چاند کا

میدان تو آخر کو رہنا ہے سحر کے ہاتھ میں
کس ذعم میں شب نے سجا رکھا ہے تمغہ چاند کا

تم دیکھنا اِک روز پریوں کی کہانی کی طرح
بچوں کو ہم نے بھی سنانا ہے فسانہ چاند کا

جانے نگاہوں میں سیاہی کس طرح پھیلی رہی
ہم آپ نے کرنوں سے بھر رکھا تھا بستہ چاند کا

ہوگا نوشتہ وقت کا ہر شہر کی دیوار پر
چھپنے کو آیا ہے فضاؤں میں ضمیمہ چاند کا

Advertisements