پالا رقیب سے جو ترے گھر میں پڑ گیا
جو دل کا درد تھا وہ مرے سر میں پڑ گیا

میں بھی شکار ہو گیا تیرِ نگاہ کا
ایک اور نام اُن کے رجسٹر میں پڑ گیا

۔۔ ق ۔۔

افسانوی محبتیں افسانہ کر گئیں
خاتون کا نصیب تو چکر میں پڑ گیا

آئیڈیل کا بھوت کسی کا نہ ہونے دے
اختر میں گھس گیا کبھی انور میں پڑ گیا

۔۔۔۔

جن کو مرے نصیب بھی سنسر نہ کر سکے
ایک ایسا سین ذیست کی پکچر میں پڑ گیا

کیوں میرے حالِ زار کی اُس کو خبر نہیں
کیا کوئی نقص دیدۀ  دلبر میں پڑ گیا

آیا تھا شیخ توبہ کئے ، وعظ کے لئے
محفل میں تیری اور ہی چکر میں پڑ گیا

Advertisements