راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر
جڑواں شہر ہیں دونوں لیکن لگتے ہیں سوتیلے
ایک کے لیکھوں میں ہیں گویا دنیا بھر کے میلے
اور دوجے کی قسمت میں لکھا ہے ہر ہر قہر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

اُس کے کھاتے میں رہتے ہیں سارے دیس کے فنڈ
لیکن اِس کی قسمت میں ہے اک مدت سے ٹھنڈ
ایک کو ٹھینگا اور دوجے کا دامن بحروں بحر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

ایک کے باسی نوکر شاہی پولیٹیشن افسر
دوجے شہر کے رہنے والے کامے اور پھٹیچر
اُس پر ہن برسے اور اِس پر پیرِ فلک بے مہر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

ایک کی سڑکیں کھلی کشادہ لگتی ہیں ڈیسینٹ
دوجے کی ہیں کھچم کھچا ‘ ہر دم ایکسیڈینٹ
ایک سکوں کی بستی دوجا شورش والا دہر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

ایک کے بازاروں میں ہر حرفت کی شے مل جائے
اور دوجے کا رہنے والا ہاتھ ملے ‘ پچھتائے
میں تریاق کو نکلا تھا کیوں لے کر آیا زہر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

ایک طرف ہیں طرح طرح کے پھولوں والے پارک
اور اک جانب کا سبزہ ہے دہول دہوئیں سے ڈارک
فرق نظر آ جائے گا تجھ کو ‘ دو اِک روز ٹھہر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

ساون میں اوقات کا پردہ اور بھی ہٹتا جائے
وہ تو بارش کے پانی سے اور نکھرتا جائے
اور اِس کو اک گندہ نالا کردے لہروں لہر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

ایک میں میں ہوں اور میرے اجداد کی یادیں ہیں
دوجے میں ہیں باس مرے اور اُس کی اولادیں ہیں
دو دنیائیں ہیں دونوں کا اپنا اپنا سحر
راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں جڑواں شہر

Advertisements