(ذیل کے اشعار کا ہر دوسرا مصرع سعید قیس کی غزلیات سے اغوا کیا گیا ہے)

اُن کی دو پسلیوں کی بات کریں
"حُسن کے ذاویوں کی بات کریں”

لوڈ شیڈنگ ہے کس کی نیت میں
"روشنی کو پتہ نہیں ہوتا”

پھر الیکشن کے ترانے سائیں
"پھر وہی روگ پرانے سائیں”

لوڈ شیڈنگ کے زمانے میں تو گپ لگتی ہے
"روشنی مجھ کو بلانے مرے گھر تک آئی”

کسے گمان ہے سسرالیوں کے بارے میں
"نہ جانے کب کوئی کس راستے سے آ جائے”

بتائیں خودکشانِ حسن ہم کو
"ہمارے جسم کا ملبہ کہاں ہے”

جس کو مس کرتا ہوں اُس مس کی ہے
"ایک تصویر مرے بستے میں”

پچھلی پھینٹی کس کے دھیان میں رہتی ہے
"اک خواہش تو ہر انسان میں رہتی ہے”

یہ جان سکتے نہیں بیسویں گریڈڈ بھی
"فقیر جس قدر آسودگی سے جیتے ہیں”

یونہی منہ پھاڑنے سے کیا حاصل
"کوئی پوچھے تو ہم بتائیں بھی”

اُس کی تاڑ میں منہ کیا کھلا کہ فورا” موقع پا کر
"اک دروازہ میرے دل کے اندر آن کھلا تھا”

اپنا چشمہ تو کھو چکا ہے ظفرؔ
"کس کی آنکھوں سے خواب دیکھیں ہم”

Advertisements