پھر وہی شب کا سمے ہے‘ پھر وہی گہرا سکوت
پھر وہی آنگن‘ وہی میں ہوں‘ وہی ہے اضطرار
پھر وہی غرفہ‘ وہی تُو ہے ۔۔۔ ۔ نہیں‘ تُو اب کہاں
ہو گئی تُو تو کسی گزرے ہوئے پل میں حنوط
اے مری شمعِ دل و دیدہ‘ مری رختِ قرار
ڈھونڈتی تو ہیں نگاہیں ہر کہیں‘ تُو اب کہاں

۔۔۔ ۔۔۔ ۔

ہاں بھلا تُو اب کہاں‘ تجھ کو مری پروا نہ تھی
کوئی پوچھے کہ کسی کی زندگی بننے کے بعد
خشک پتے کی طرح یُوں بھی بکھرتا ہے کوئی
کیسے جتلاؤں کہ ایسی بے رُخی زیبا نہ تھی
ساتھ جینے ساتھ مرنے کی قسم کھانے کے بعد
چپ چپیتے قبر میں کیونکر اُترتا ہے کوئی

۔۔۔ ۔۔۔ ۔

کوئی دن رہنی ہے یہ غرفے کی جانب ٹکٹکی
کوئی دن تڑپائے گی جو بے دھیانی ہے صنم
پھر بہا لے جائے گا کوئی نگارِ نکتہ سنج
مستقل رہتا نہیں دل میں کبھی غم یا خوشی
مسکراہٹ ہو کہ آنسو سب کہانی ہے صنم
“رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج“

۔۔۔ ۔۔۔ ۔

وقت بدلے گا مگر اندازِ محبوبی کے ساتھ
میری نظروں کے لئے ناآشنا کچھ بھی نہیں
مسکراہٹ آنسوؤں کا خول پہنے آئے گی
روٹھنے والے ترا پہلُو نہیں ہے کُل حیات
تُو اگر اُٹھ کر گیا تو کیا ہوا‘ کچھ بھی نہیں
غمکدہء دل میں تیری یاد رہنے آئے گی

۔۔۔ ۔۔۔ ۔

اور پھر اک روز تیری یاد کی ٹہنی سے بھی
سر نکالے گی کوئی کونپل نئے عنوان سے
مستقل حالات کی ندی کبھی ٹھہری نہیں
پاسِ ناموسِ وفا اِک وہم کی جادوگری
آدمی آخر نکل آتا ہے ہر بحران سے
مسکراہٹ ہو کہ آنسو‘ جاوداں کچھ بھی نہیں

Advertisements