یہ عشق کیسا روگ ہے یاروں سے پوچھ لو
اُس آستاں کے سینہ فگاروں سے پوچھ لو

ذوقِ سفر کی نقدی اگر لے کے آئے ہو
منزل کے بھاؤ راہگذ اروں سے پوچھ لو

اتنا تو اختلاط میسر ہے عشق میں
قسمت کا حال میرے ستاروں سے پوچھ لو

کشتی کی عافیت کو سپردِ دعا کرو
گرداب کس قدر ہیں کناروں سے پوچھ لو

کیسے کئے ہیں بھسم زمانے کے کاخ و کُو
یہ بات آنسوؤں کے شراروں سے پوچھ لو

Advertisements