نہیں میری بیٹی میں تنہا نہیں
ہمیشہ مرے ساتھ رہتی ہو تم

میں جب بھی کوئی گیت سننے لگوں
تو آواز کے ساتھ بہتی ہو تم

میں جب بھی کوئی بات کرنے لگوں
مری بات کو آ کے کہتی ہو تم

میں جب بھی غزل کوئی لکھنے لگوں
تو قرطاس پر آن ڈھتی ہو تم

میں جب بھی کتابوں کو پڑھنے لگوں
تو نظموں فسانوں میں رہتی ہو تم

مرے سنگ بھرتی ہو قلقاریاں
مرا غم مرے ساتھ سہتی ہو تم

نہیں میری بیٹی میں تنہا نہیں

Advertisements