آج میں خود میں نہیں
پھر کوئی دیرینہ سرشاری تمہاری یاد کی
یوں ابھر آئی ہے میرے دیدہء غماز میں
مجھ کو لگتا ہے کہ جیسے دل مرا سینے سے باہر آ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر کی ہر شے میں تمہارے لمس کی خوشبو مجھے دیوانہ کرتی ہے بہت
دھڑکنوں میں پھر کوئی زنجیر سی چھن چھن چھنکتی ہے بہت
زندگی ہر چیز سے رستی ہوئی محسوس ہوتی ہے مجھے
طاق میں رکھی ہوئی تصویر میں جب دیکھتا ہوں تو تمہاری آنکھ میں اک روشنی محسوس ہوتی ہے مجھے
آج کوئی عکس آئینے سے باہر آ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔

آج میں خود میں نہیں
سرسراتی ہیں ہواؤں میں تمہاری دلربا سرگوشیاں
تھر تھراتی ہیں مرے اطراف میں چاروں طرف کھوئی ہوئی سچائیاں
ٹمٹماتی ہیں تمہاری دلکشا پرچھائیاں
عشق گویا مرنے اور جینے سے باہر آ گیا

Advertisements