معتبر آپ کا لارا ہی نہیں ہے ہائے
مجھ کو شیشے میں اتارا ہی نہیں ہے ہائے

آپ کی جھیل سی آنکھوں میں اتر تو جاؤں
کسی تنکے کا سہارا ہی نہیں ہے ہائے

تیرے معیار ِ وجاہت کو وہ کیسے پہنچے
صورتِ آلو بخارا ہی نہیں ہے ہائے

ڈیٹ پر ڈیٹ دئے جاتا ہے حسنِ کافر
اِتنا نزدیک ہزارا ہی نہیں ہے ہائے

شبِ یلدا مری قلفی بھی بنا سکتی ہے
تیرے غرفے سے اشارہ ہی نہیں ہے ہائے

جو مری شامتِ اعمال کا منشاء ٹھہرا
تیرے ابے کو گوارا ہی نہیں ہے ہائے

تجھ کو شادی کی مصیبت سے بچائے رکھیں
اِتنا ماں باپ کو پیارا ہی نہیں ہے ہائے

آج کا قیس تو شیریں کو بھی دل دے بیٹھا
صرف لیلیٰ پہ گزارا ہی نہیں ہے ہائے

حضرتِ شیخ بھی میموں پہ فدا ہیں لیکن
کوئی اسکرٹ غرارا ہی نہیں ہے ہائے

حسن کہتا ہے کہ عاشق کا بھی منہ متھا ہو
یہ فقط خواب ہمارا ہی نہیں ہے ہائے

تین حرفوں میں چکا بیٹھے ہیں سودا اپنا
اپنی ہستی پہ اجارا ہی نہیں ہے ہائے

اپنی بیوی کو میں ناراض نہیں کر سکتا
کسی ہوٹل سے ادھارا ہی نہیں ہے ہائے

نئی تہذیب کے انڈے بھی ہیں گندے سارے
اِک معیشت کا خسارا ہی نہیں ہے ہائے

اُس چغد کو بھی میسر نہیں لیڈر بننا
اسٹرائیک پہ ابھارا ہی نہیں ہے ہائے

روکھی سوکھی سی یہ پکچر نہیں دیکھی جاتی
انجمن انجمن آرا ہی نہیں ہے ہائے

جو پئے جاب تجربے کی سند بھی دے دے
ایسا تعلیمی ادارا ہی نہیں ہے ہائے

اِک ذرا اونچے گریڈوں کے افق پر چمکے
میری قسمت کا ستارا ہی نہیں ہے ہائے

کشتیءذیست کی آوارگی تسلیم مگر
ہاتھ میں کوئی شکارا ہی نہیں ہے ہائے

ہوسِ زر کے جراثیم بڑھے جاتے ہیں
اِس سمندر کا کنارا ہی نہیں ہے ہائے

Advertisements