تیرے سہارے رہ گئے
ہم تو کنوارے رہ گئے

اب بھی وہی زر۔زن۔ زمیں
سب بھائی چارے رہ گئے

میرٹ کی بدعت کیا کہوں
آنکھوں کے تارے رہ گئے

لیڈر کی لاری جب چلی
لیڈر کے لارے رہ گئے

اپنا تو پٹرا ہو گیا
تیرے چھوہارے رہ گئے

ہم تو تری سرکار میں
جب بھی پدھارے رہ گئے

وہ مار آئے ڈیٹ بھی
ہم ”آبپارے“ رہ گئے

تم موج میلہ لے گئے
اب تو گزارے رہ گئے

جاں ہار تو جاں سے گئے
بے اعتبارے رہ گئے

لیلٰی کو رانجھا لے اڑا
مجنوں پکارے رہ گئے

ڈنڈا ہے سردارِ جہاں
کمزور سارے رہ گئے

Advertisements