پھر اندھیرے نور کا دہوکہ پہن کر آئیں گے
آگہی جب کانچ کا بُت ہے تو پتھر آئیں گے

کٹ کے آنگن میں گری کیسی نگاہوں کی پتنگ
لوٹنے والی تمناؤں کو چکر آئیں گے

یہ جو کہساروں کی پھسلن ہے کہیں بہہ جائے گی
دیکھنا اِک روز ہم چوٹی کو چھو کر آئیں گے

موسموں نے جب بھی پہنی ہیں گلابی مہندیاں
کیوں گماں ہوتا ہے کہ طوفان ہی گھر آئیں گے

پانیوں کے شور غراتے ہی رہ جائیں گے اور
ہم ندی پر سے گزر جائیں گے اوپر آئیں گے

اسمِ اعظم سے زبانوں کا ہنر کھلنے تو دو
طاقتوں کے دیوتا معبد سے باہر آئیں گے

Advertisements