جستجو میں دلِ بیتاب تو رہتا ہو گا
بند آنکھوں میں کوئی خواب تو رہتا ہو گا

بستیاں پار بسی ہیں تو بسی ہیں کیسے
یہ سمندر کبھی پایاب تو رہتا ہو گا

چھیڑ بیٹھا تھا کبھی جو مرے تارِ دل کو
تیرے ہاتھوں میں وہ مضراب تو رہتا ہو گا

دست و پا یونہی تو شعلے نہیں اگلا کرتے
جسم کے ظرف میں تیزاب تو رہتا ہو گا

اے مرے کاتب تقدیر مرے جیون میں
میرے لکھنے کو کوئی باب تو رہتا ہو گا

دل کی شادابی سے لگتا تو نہیں ہے لیکن
اِس جزیرے میں بھی سیلاب تو رہتا ہو گا

میرے رستے میں کوئی کوہِ ندا ہو کہ نہ ہو
واہمہ برسرِ اعصاب تو رہتا ہو گا

یوں تو وحشی نے سدا بزم میں اپنی کی ہے
یہ مگر واقفِ آداب تو رہتا ہو گا

رتجگے سونپ دئے جس نے مری آنکھوں کو
وہ مرے واسطے بے خواب تو رہتا ہو گا

کوئی بتلاؤ کہ انگاروں کی اِس بستی میں
رتبہء گوہرِ نایاب تو رہتا ہو گا

Advertisements