میں کتبہ ہوں گزری ہوئی ساعتوں کا
جسے میں نے گاڑا ہے ہر راستے پر
میں نوحہ ہوں بھولی ہوئی صحبتوں کا
جو لیتا ہے سانس آج بھی میرے اندر

میں جو بات کرتا ہوں اُس میں وہ بولے
میں جو لفظ لکھتا ہوں اس میں وہ چیخے

مری زندگی میں بڑے موڑ آئے
عجب سرگرانی میں چلتا رہا ہوں
بہر گام رستہ بدلتا رہا ہوں
بدلتا رہا ہوں میں گو اپنا رستہ
مگر جب کبھی میں نے دیکھا پلٹ کر
تو آیا ہے مجھ کو نظر سیدھا رستہ

وہ ماضی تھا یہ حال ہے‘ مانتا ہوں
مگر خود کو کیسے یہ بتلا سکوں گا
میں یادوں سے بچ کر کہاں جا سکوں گا

Advertisements