ہر دولتی کی حکایات نہیں کہتے ہیں
یار مارے تو اُسے لات نہیں کہتے ہیں

تم جو بھگتانے کو آ جاتے ہو رسمِ دنیا
ایسے ملنے کو ملاقات نہیں کہتے ہیں

ہم سنا آتے ہیں حالات زمانے بھر کے
وہ جو کہنی ہو وہی بات نہیں کہتے ہیں

جانے کب کون کہاں غوطہ زنی کر جائے
سب کی ہمراہی کو ہم ساتھ نہیں کہتے ہیں

سچ کو سچ کہنے کے اوقات مقرر کر لو
ایک ہی بات تو دن رات نہیں کہتے ہیں

سالیاں ، ساس ، سسر ، سالے سبھی غم پالے
تم سے لیکن سبھی صدمات نہیں کہتے ہیں

آفریں کہئے اگر بازیگروں کا فن ہے
ہو سیاست تو کمالات نہیں کہتے ہیں

جو مفادات کے انڈوں سے نکالے جائیں
ایسے چوزوں کو نظریات نہیں کہتے ہیں

ہاتھ ہے قوم کے لیڈر کا سو گچی پہ رہے
ہم سوالات و جوابات نہیں کہتے ہیں

نظرانداز کیا جاتا ہے خراٹوں کو
کیوں اِنہیں قومی نشریات نہیں کہتے ہیں

لفٹ دیتی نہیں کڑیاں سو کنوارے ہیں ہم
اپنی دانش کی کرامات نہیں کہتے ہیں

کیسے سمجھے گا یہ امریکا بہادر ، ہائے !
ہم ہیں انساں ، ہمیں حشرات نہیں کہتے ہیں

ہم نے لکھے ہیں اگر شعر وغیرہ اُن پر
تم کہو ، وہ تو خرافات نہیں کہتے ہیں

۔۔ ق ۔۔
بیس سو پانچ میں مانگی تھی دعائے رحمت
اور امریکا کو سوغات نہیں کہتے ہیں

اب کے کیا جانے بلا کون سی اترے ہم پر
سالِ نو ہم تو مناجات نہیں کہتے ہیں
۔۔۔۔

آپ کھائیں گے اڑنگی تو سمجھ جائیں گے
ہم ابھی صورتِ حالات نہیں کہتے ہیں

ہم نے مانا کہ ظفر شادی شدہ ہو ، پھر بھی
زندگانی کو حوالات نہیں کہتے ہیں

Advertisements