جھوٹ کے آگے کہاں چلتا ہے سچائی کا نام
کلجگِ نو میں تو سبزہ ہے اسی کائی کا نام

جانتا ہوں کہ وہ مس خفتہ ہیں میک اپ میں کہیں
اس لئے رکھا ہے پردہ اُن کی زیبائی کا نام

سوچئے دینا ہے کیا اُسں کی جماہی کو لقب
ہو چکا ہے رقصِ محبوبہ کی انگڑائی کا نام

اُن کے ہاں کیا ہو امیدِ احترامِ عاشقاں
ڈھیٹ پن ٹھہرے جہاں صبر و شکیبائی کا نام

گھس گئے ہیں ہاتھ مس کالیں اُسے دیتے ہوئے
پھر بھی وہ ظالم نہیں لیتا ہے شنوائی کا نام

آپ کی نسبت کے ڈر سے تابِ گویائی نہیں
ہم نے بھی رکھا ہے ورنہ آپ کے بھائی کا نام

ہم کسی بھی معرکے سے ہار کر لوٹے نہیں
ہر شکستِ فاش کو دیتے ہیں پسپائی کا نام

جب گرانی اس کو بولو گے، گراں لگنی تو ہے
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنی مہنگائی کا نام

اتنی گہرائی ہے کب درکار معلومات میں
بائیو ڈیٹا میں نہیں ہوتا کبھی دائی کا نام

ناپتا ہے اک ترے پیچھے اگر سڑکیں کوئی
کیوں لفنگا رکھ لیا ہے تُو نے سودائی کا نام

میرے اندازِ بیاں سے فائدہ کچھ تو ہوا
پڑ گیا ہے لغو گوئی خامہ فرسائی کا نام

Advertisements