لب پہ اسمِ جناب کِھِلتا ہے
یہ کنول آب آب کِھِلتا ہے

فصلِ گُل ہے سو دِل میں عشقِ نبی
اِن دنوں بے حساب کِھِلتا ہے

جب مدینے کی آرزو جاگے
راستے کا گلاب کِھِلتا ہے

ایک احساسِ وصل تشنہ لب
اور بن کر سحاب کِھِلتا ہے

مسکرائے دعا حضوری کی
ہاتھ میں ماہتاب کِھِلتا ہے

ذکرِ احمد وہ گُل کہ ہر رُت میں
صورتِ انتخاب کِھِلتا ہے

ویسے تعبیر بھی مہک اُٹھے
جیسے آنکھوں میں خواب کِھِلتا ہے

Advertisements