وہ خود کو یوسفِ ثانی کہیں تو لوگ کیا مانیں
جنہیں بندر کہا جائے تو بندر بھی برا مانیں

لغت کی رو سے ہم جس کو شُتر غمزہ بھی کہتے ہیں
مزاجِ یار میں ہو تو ادائے دلکشا مانیں

حسینوں نے تو جیسے یہ تہیہ کر کے رکھا ہو
فدا جن پر بھی ہوں ہم کو وہی کھسکا ہوا مانیں

وہ طوطے کی طرح ہم سے نگاہیں پھیر لیتی ہے
مگر کس دل سے ہم اُس بے وفا کو بے وفا مانیں

ذرا لترول ہو جائے تو تجھ پر مرنے والے بھی
وفا کو جرم ٹھہرائیں ، محبت کو خطا مانیں

زمانِ نو میں لگتا ہے ، یہی فیشن کی منطق ہے
ترے فطری لبادے کو لباسِ فاخرہ مانیں

جنہیں پانی نہیں ملتا اُنہیں تم عطر دیتے ہو
جنہیں روٹی نہیں ملتی وہ آئی ٹی کو کیا مانیں

سمجھتے ہیں مآلِ ہڈ حرامی ناسپاسی ہے
زمانے سے تقاضہ ہے ہمیں ہم سے سوا مانیں

نہیں کہ پاپ موسیقی سے ہی پرہیز کرتے ہیں
کلاسیکی بھی سن لیں تو اُسے بھی ہم سزا مانیں

خدا کی شان کہ جس نے ہمیشہ ہم کو لوٹا ہے
اُسی کو رہنما جانیں ، اُسی کو ناخدا مانیں

ظفر ہم پھانکتے ہیں تو یہ آنکھیں ٹھہر جاتی ہیں
بھلا جمہوریت کے زہر کو کیسے دوا مانیں

Advertisements