ثنائے خواجہ کی خوشبو لٹا رہا ہے قلم
وفورِ شوق میں اُڑتا ہی جا رہا ہے قلم

جڑے ہیں اس نے محبت کے لعل کاغذ پر
یا کہکشاؤں میں رستہ بنا رہا ہے قلم

بڑا سکون ہے ذکرِ نبی کے لمحوں میں
مرے وجود کے پردے اُٹھا رہا ہے قلم

یہیں اُجالے گئے تھے نقوش ہستی کے
یہی وہ در ہے جہاں سر جُھکا رہا ہے قلم

یُوں عکسِ نور کہاں تھا لہو کی موجوں میں
مرے تو دل کو مدینہ بنا رہا ہے قلم

وہ ذکرِ پاک حوالہ بنا ہوا ہے ظفر
سو تیرگی میں بہت جگمگا رہا ہے قلم

Advertisements