لیڈروں سے غلطیاں ہوتی نہیں ہیں مطلقا”
یوں کہ اگلوں نے کبھی مانی نہیں ہیں مطلقا”

آپ کیوں بیٹھیں اسمبلی میں خدانخواستہ
آپ کی اسناد تو جعلی نہیں ہیں مطلقا”

عشق کے برساتی جذبوں سے کھچا کھچ بھر گئیں
یہ دلوں کی جھگیاں خالی نہیں ہیں مطلقا”

عاشقوں سے اس قدر بھی بد گماں ہوتے نہیں
ہیں تو یہ مچھر مگر ڈینگی نہیں ہیں مطلقا”

بیویوں کے باب میں شوہر ہیں سارے متفق
جیسی ہم کو چاہئیں ویسی نہیں ہیں مطلقا”

اُن کا طعنہ بھی ہمیں بیگم سے ملتا ہے بہت
ہائے وہ باتیں جو سوچی بھی نہیں ہیں مطلقا”

افسروں کے سامنے کیسے ہلانے لگتے ہیں
جب کلرکوں کی دمیں ہوتی نہیں ہیں مطلقا”

کیا غضب کا حُسن ہے ‘ بالکل مسلماں کی طرح
آپ کی آنکھیں کبھی جاگی نہیں ہیں مطلقا”

اِتنی جُگتیں نہ کریں غیرت سے مر ہی جائیں گے
یہ ظفر صاحب ہیں‘ زرداری نہیں ہیں مطلقا”

Advertisements