یارو ! مجھ سے اِس بارے میں ایویں ہی پنگا نہ لو
تم سب دور ہٹو
پنکی میری ہے

تم ہو کون جو پنکی کے نینوں پہ آہیں بھرتے ہو
اُس کے جلوؤں پر مرنے کا کس نے دیا ہے حق تم کو
دیکھو دیکھو ایسی باتیں کر کے میرے منہ نہ لگو
تم سب دور ہٹو
پنکی میری ہے

پنکی کے کالج کے باہر کیوں منڈلاتے ہو جا کر
اور کسی مٹیار کا سینڈو تم کو پھینٹ نہ دے آ کر
اپنا نہیں تو اپنے ”ماپے“ کی عزت کا پاس کرو
تم سب دور ہٹو
پنکی میری ہے

اس کی آنٹی میرے گھر کے عین برابر رہتی ہے
اس کی مما ہنستی ہے تو مجھ کو ناٹی کہتی ہے
تم سے تو گل بات نہیں ہے ، تم کیوں بیچ میں گھستے ہو
تم سب دور ہٹو
پنکی میری ہے

اس کی چیچی میں جو چھلا ہے وہ میں دیا اُسے
اس کے ہاتھ میں جو ریکٹ ہے ، میں نے پریزنٹ کیا اُسے
اس کی خاطر اس کے پیو کے ناز اُٹھائے ہیں سو سو
تم سب دور ہٹو
پنکی میری ہے

کل کو اس نے دلہن بن کر میرے گھر میں آنا ہے
میرے حصے کی شامت ہے ، میرا  تانا بانا ہے
بہتر ہے کہ آج سے اس کو بہن کہو ، بھابھی سمجھو
تم سب دور ہٹو
پنکی میری ہے

Advertisements