(پروین شاکر مرحومہ کی غزل کی پیروڈی )

ٹوٹے کسی کی نیند ، مگر تم کو اِس سے کیا
کرتے رہو خراٹے نشر ، تم کو اِس سے کیا

تم روز روز سینڈل بکف گھومتی رہو
پھٹ جائے میرے یار کا سر ، تم کو اِس سے کیا

تم کو مری سوات کی سیروں سے ہے غرض
پنڈی میں جی نہ پائے بشر ، تم کو اِس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، مجھے ٹھینگے پر دھرو
میں چوز کر لوں کوئی سسر ، تم کو اِس سے کیا

تم نے تو بیڈروم میں اے سی لگا لئے
چٹخے ہماری ٹنڈ ظفر ، تم کو اِس سے کیا

Advertisements