پھر آج نیواں نیواںسوئے سس گیا توپھنس گیا
میری طرح جب بھی گیا، بے بس گیا، تو پھنس گیا

کل اس نے شرماتے ہوئے ، دیکھا مجھے جاتے ہوئے
کل کاتب شامت مجھے بھی دس گیا، تو پھنس گیا

اس شوخ میں ہے کیا فسوں ، سو جان سے مرتا ہے کیوں؟
پاؤں ترا کن دلدوں میں دھنس گیا، تو پھنس گیا

سارے ہی تاڑو تن گئے، کڑیوں کے بھائی بن گئے
آواز جانے کون تھا جو کس گیا، تو پھنس گیا

چمکی جو تیری لیڈری بنگلے ملے کوٹھی ملی
لیکن یہاں سے جب بھی یہ سرکس گیا، تو پھنس گیا

چونکہ چنانچہ سے ارے، ٹلتا ہے کب ظالم سمے
ڈنڈا جو لہرایا تو پیش و پس گیا، تو پھنس گیا

پٹرول بھی مہنگا ہوا، ہر سمت سے ٹھینگا ہوا
گھر کے بجٹ کا تو نکل بھرکس گیا، تو پھنس گیا

یہ ازدواجی پیشیاں نہ مار دیں تجھ کو میاں
مارِ گرانی آن کر یوں ڈس گیا، تو پھنس گیا

افسر کی نکتہ دانیاں دفتر کے سب پیر و جواں
چپ چاپ سنتے تھے مگر تو ہنس گیا، تو پھنس گیا

وقتِ نکاح کہنے لگے، قلقاریاں بھرتے ہوئے
سارے رقیب رو سیاہ تو پھنس گیا  تو پھنس گیا

پڑھنے لگا تیرا ظفر ، کلیات ساری کھول کر
حاضر تھا جو بزم سخن سے نس گیا، تو پھنس گیا

Advertisements