رنگِ دنیا دیکھتا رہتا ہوں میں
خود کو خود سے مانگتا رہتا ہوں میں

رات بھر کیوں جاگتا رہتا ہوں میں
چاند سے کیا پوچھتا رہتا ہوں میں

کیسا نابینا سمے ہے ذیست کا
سب سے آنکھیں مانگتا رہتا ہوں میں

تشنگی بجھتی نہیں اظہار کی
اپنے اندر گونجتا رہتا ہوں میں

ذعم ہے پتھرائے جانے کا مجھے
اور دل کو تھامتا رہتا ہوں میں

خشک پتے ہیں یا امیدیں ظفر
ٹہنیوں سے توڑتا رہتا ہوں میں

Advertisements